حضرت حیات محمد رحمۃ اللہ علیہ: سوانح حیات اور روحانی مقام
اکابرین کی روایت کی روشنی میں ایک ایسی ہستی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ظاہر میں نہایت سادہ اور باطن میں ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھی۔ وہ ہستی حضرت حیات محمد رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔
حضرت حیات محمد رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت لدھیانہ کے قصبہ ساہنیوال تحصیل سمرالہ میں ہوئی۔ بعد ازاں آپ گوجرانوالہ تشریف لے آئے۔ آپ کی ظاہری زندگی نہایت سادہ تھی۔ آپ اپنے ہاتھ سے محنت کر کے حلال رزق کماتے تھے۔ مگر آپ کا باطن ابتدا ہی سے ذکر الٰہی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روشن تھا۔
آپ کے والد حضرت فقیر محمد رحمۃ اللہ علیہ ایک مدرس تھے اور علم دین کی خدمت میں مشغول رہتے تھے۔ آپ کے شاگردوں میں جنات بھی شامل تھے۔ اس ماحول کا اثر حضرت حیات محمد رحمۃ اللہ علیہ پر بچپن ہی سے نمایاں تھا۔ پانچ برس کی عمر میں ہی آپ کو زہد و تقویٰ، نماز اور روزہ کی تعلیم دی جانے لگی۔
جب آپ کی عمر دس برس ہوئی تو آپ کو حضرت قاضی ولایت محدث رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیجا گیا۔ حضرت قاضی ولایت محدث رحمۃ اللہ علیہ نہایت بلند پایہ عالم تھے اور حضرت احمد دین عالی سرکار رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے اور علم حدیث میں کامل درجہ رکھتے تھے۔
اسی زمانہ میں ایک دن حضرت احمد دین عالی سرکار رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے اور طریقت، حقیقت اور معرفت کے اسرار بیان فرمائے۔ یہ کلمات حضرت حیات محمد رحمۃ اللہ علیہ کے دل میں اس طرح اتر گئے کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آگ بھڑک اٹھی اور آپ بے قرار ہو گئے۔
یہی بے قراری آپ کو مرشد کامل کی تلاش میں لے گئی۔ آپ گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ کلیہ شریف، دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ، لاہور میں حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ، حضرت میاں میر رحمۃ اللہ علیہ، سخی سرور رحمۃ اللہ علیہ اور ملتان میں دیگر اولیاء کرام رحمہم اللہ کے مزارات پر حاضر ہوئے۔ ہر جگہ فیض ملا مگر دل کی پیاس بجھنے کے بجائے بڑھتی گئی۔
آخرکار آپ دوراہا شریف پہنچے جہاں حضرت نیک محمد شاہ عرف نیکو رحمۃ اللہ علیہ مقیم تھے۔ وہ ایک کامل ولی اور صاحب حال بزرگ تھے۔ حضرت حیات محمد رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے دست مبارک پر بیعت کی اور پھر اپنے آپ کو مکمل طور پر ذکر و مجاہدہ کے حوالے کر دیا۔ آپ نے طریقت، حقیقت اور معرفت کے منازل تیزی سے طے کیے اور قرب الٰہی کے مقام تک پہنچے۔
آپ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور اپنے مرشد حضرت نیک محمد شاہ عرف نیکو رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے خلافت و اجازت عطا ہوئی۔ مگر آپ نے ہمیشہ گمنامی کو اختیار کیا اور بیعت کو عام نہ کیا۔
آپ کی زندگی میں ذکر سلطانی کا غلبہ نہایت شدید تھا۔ ایک رات آپ استغراق میں تھے اور ذکر قلبی اس قدر غالب ہوا کہ اللہ اللہ کی آواز واضح سنائی دینے لگی۔ پھر کیفیت یہ ہوئی کہ آپ کے جسم کا ایک ایک عضو جدا ہو گیا اور ہر عضو اپنی جگہ اللہ اللہ پکارنے لگا۔ ہر عضو زمین سے بلند ہو کر ذکر کرتا اور پھر نیچے آتا۔
اس کے بعد ہر عضو بے شمار باطنی اجسام میں تقسیم ہو گیا اور ہر ایک بلند آواز سے اللہ اللہ کہنے لگا۔ فضا ذکر سے بھر گئی اور ہر طرف ایک ہی صدا گونجنے لگی۔ اسی حالت میں آپ کی زبان مبارک پر محمد الرسول اللہ جاری ہوا۔ آپ نے تین مرتبہ یہ کلمہ شریف ادا کیا تو تمام اعضاء دوبارہ اپنے اصل جسم میں جمع ہو گئے اور جسم صحیح و سالم ہو گیا۔
یہ کیفیت فنا فی الذکر اور بقا باللہ کی ایک عظیم جھلک تھی۔
آپ ہمیشہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پابند رہے۔ آپ کی زندگی عاجزی، خاموشی اور اخلاص کا نمونہ تھی۔
حضرت صاحب کی اہلیہ محترمہ، حضرت رحمت بی بی رحمتہ اللہ علیہا بھی فقر و معرفت کے اعلیٰ مدارج پر فائز تھیں۔
آپ نے 6 نومبر 1992 کو اس دنیاۓ فانی کو خیر آباد کہا۔ آپ کی زندگی رہتی دنیا تک طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
راقم الحروف: میاں علی رضا قادری




